اسلام آباد (ایس اعوان) این سی سی آئی اے نے چائلڈ پورنوگرافی اور بچوں کے جنسی استحصال میں ملوث ملزم کو اوکاڑہ سے گرفتار کر لیا۔

گرفتار ملزم کی شناخت محمد حسام شاہد کے نام سے ہوئی ہے۔

نیشنل سینٹر فار مسنگ اینڈ ایکسپلوئٹڈ چلڈرن کی سائبر ٹپ لائن رپورٹ پر این سی سی آئی اے نے تحقیقات شروع کیں۔

تکنیکی تجزیے کے دوران لاہور سے آپریٹ ہونے والے ایک آئی پی ایڈریس کے ذریعے بچوں کے جنسی استحصال پر مبنی مواد تیار اور اپ لوڈ کیے جانے کے شواہد سامنے آئے۔

این سی سی آئی اے کی ٹیم نے اوکاڑہ میں چھاپہ مار کارروائی کے دوران ملزم کو گرفتار کر لیا۔

کارروائی کے دوران ملزم کے زیر استعمال ڈیجیٹل ڈیوائسز بھی قبضے میں لے لی گئیں، جنہیں فرانزک اور تکنیکی تجزیے کے لیے بھجوا دیا گیا ہے۔

ابتدائی تفتیش کے مطابق ملزم ٹک ٹاک کے ذریعے کم عمر بچوں کی ویڈیوز بنا کر قابل اعتراض مواد تیار کرنے اور اپ لوڈ کرنے میں ملوث پایا گیا ہے۔

ملزم کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جبکہ مزید تفتیش اور ڈیجیٹل شواہد کا جائزہ لینے کا عمل جاری ہے۔

ڈی جی این سی سی آئی اے کا کہنا ہے کہ بچوں کے جنسی استحصال اور چائلڈ پورنوگرافی میں ملوث عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں۔

بچوں کو محفوظ ڈیجیٹل ماحول فراہم کرنے کے لیے ایسے جرائم میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی، ڈی جی این سی سی آئی اے۔