فلپائن: فلپائن کے شہر داواؤ میں ملائیشیا کے قونصل جنرل ڈیڈی فیصل احمد صالح نے کہا ہے کہ آسیان (ASEAN) کا مستقبل مضبوط علاقائی اداروں، باہمی تعاون اور عوام کی مشترکہ ذمہ داری سے وابستہ ہے، جبکہ نوجوان نسل خطے کے مستقبل کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔

آریا ہوٹل، داواؤ سٹی میں خطاب کرتے ہوئے ملائیشین قونصل جنرل نے آسیان کے مستقبل کے حوالے سے دو جہتی حکمت عملی پر روشنی ڈالی، جس میں علاقائی اداروں کو مضبوط بنانے اور عوام بالخصوص نوجوان نسل میں مشترکہ ذمہ داری کا احساس اجاگر کرنے پر زور دیا گیا۔

انہوں نے ملائیشیا کی 2025 میں آسیان کی صدارت کے مرکزی موضوع ’’جامعیت اور پائیداری‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس حکمت عملی کا مقصد فوری بحرانوں سے نمٹنے سے آگے بڑھ کر 2045 تک آسیان کمیونٹی کے وژن کے حصول کے لیے مضبوط اور پائیدار بنیادیں قائم کرنا تھا۔

قونصل جنرل نے علاقائی انضمام اور جدیدیت کے لیے چار اہم ترجیحات بیان کرتے ہوئے کہا کہ آسیان نے آسیان ٹریڈ اِن گڈز معاہدے کے تحت 98.86 فیصد ٹیرف لائنز پر کسٹم ڈیوٹی ختم کر دی ہے۔ تاہم اکتوبر 2025 میں دستخط کیے گئے معاہدے کے اپ گریڈڈ پروٹوکول کے ذریعے تجارتی رکاوٹوں کے خاتمے، کسٹمز نظام کو ڈیجیٹل بنانے اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو علاقائی تجارتی نظام کا حصہ بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 2030 تک آسیان کی ڈیجیٹل معیشت کا حجم 2 کھرب امریکی ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔ اس ترقی کے ساتھ مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کے ذمہ دارانہ استعمال کو یقینی بنانا بھی ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے آسیان اے آئی سیفٹی نیٹ ورک جیسے اقدامات اہمیت رکھتے ہیں تاکہ ٹیکنالوجی کے فوائد تمام طبقات تک پہنچ سکیں اور معاشرتی عدم مساوات میں اضافہ نہ ہو۔

ڈیڈی فیصل احمد صالح نے کہا کہ 26 اکتوبر 2025 کو مشرقی تیمور کی آسیان کے 11ویں رکن ملک کے طور پر باضابطہ شمولیت علاقائی تنظیم کی تاریخ میں اہم سنگ میل ہے۔ یہ پیش رفت علاقائی یکجہتی، شمولیت اور رکن ممالک کے درمیان ترقیاتی فرق کم کرنے کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔

انہوں نے آسیان کی اسٹریٹجک خودمختاری اور سفارتی کردار پر بات کرتے ہوئے مئی 2025 میں آسیان، خلیج تعاون کونسل اور چین کے سربراہی اجلاس، جولائی 2025 میں کمبوڈیا اور تھائی لینڈ کے درمیان جنگ بندی کے لیے سفارتی کوششوں اور میانمار کی صورتحال پر مسلسل سفارتی رابطوں کو اہم پیش رفت قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدامات علاقائی استحکام، مذاکرات کے فروغ اور عالمی و علاقائی معاملات میں آسیان کے مرکزی کردار کو برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار ہیں۔

ملائیشین قونصل جنرل نے کہا کہ علاقائی اعلانات، معاہدے اور پروٹوکول اس وقت تک محض کاغذی دستاویزات ہیں جب تک انہیں عملی اقدامات میں تبدیل نہ کیا جائے۔ آسیان کے انضمام کی اصل کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب تجارت اور سرمایہ کاری سے روزگار اور معاشی مواقع پیدا ہوں، ڈیجیٹل نظام ایک دوسرے سے منسلک ہوں اور علاقائی تعاون کے ثمرات عام شہریوں کی روزمرہ زندگی میں نظر آئیں۔

نوجوان نسل کے کردار پر زور دیتے ہوئے انہوں نے طلبہ، محققین اور جدت طرازوں پر زور دیا کہ وہ آسیان کے طویل المدتی مستقبل کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کریں۔

انہوں نے کہا کہ 2025 کے رہنماؤں نے 2045 کے وژن کے لیے ادارہ جاتی بنیادیں اور ترقی کے راستے متعین کیے ہیں، تاہم اس وقت کی قیادت اور پیشہ ورانہ ذمہ داریاں آج کی نوجوان نسل نے سنبھالنی ہیں۔

ان کے مطابق آسیان کا مستقبل صرف موجودہ قیادت کے وعدوں اور اقدامات پر منحصر نہیں بلکہ اس نسل کے وژن، صلاحیتوں اور اجتماعی عزم سے بھی وابستہ ہے جو آنے والے برسوں میں خطے کی قیادت کرے