قومی
بریکنگ نیوز
پاکستان میں ٹک ٹاک پرپابندی لگی یا نہیں؟ پی ٹی اے نے وضاحت کر دی
ٹک ٹاک چینی کمپنی بائٹ ڈانس کی ملکیت ہے جسے دنیا کے مختلف ممالک میں مکمل یا جزوی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے مقبول ویڈیو شیئرنگ ایپ ’ٹک ٹاک‘ پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ایک نوٹیفکیشن کی سختی سے تردید کرتے ہوئے اسے ’غلط اور گمراہ کن‘ قرار دیا ہے۔
پی ٹی اے نے اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر جاری وضاحتی بیان میں کہا کہ اتھارٹی کی جانب سے ایسا کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا اور نہ ہی ٹک ٹاک پر کسی قسم کی نئی پابندی عائد کی گئی ہے۔
پی ٹی اے نے شہریوں اور صارفین کو ہدایت کی ہے کہ وہ غیر مصدقہ اور افواہوں پر مبنی اطلاعات پر بالکل کان نہ دھریں اور نہ ہی انہیں آگے شیئر کریں۔
اتھارٹی کا مزید کہنا تھا کہ کسی بھی قسم کی مصدقہ معلومات صرف پی ٹی اے کی سرکاری ویب سائٹ اور تصدیق شدہ سوشل میڈیا ہینڈلز سے ہی حاصل کی جائیں۔
خیال رہے کہ ماضی میں ’غیر اخلاقی مواد‘ کی شکایت پر پاکستان میں ٹک ٹاک پر متعدد بار عارضی پابندی عائد کی جا چکی ہے۔ پہلی بار اکتوبر 2020 میں اسے بلاک کیا گیا تھا، جسے انتظامیہ کی یقین دہانی پر 10 دن بعد بحال کیا گیا تھا۔ اس کے بعد مارچ، جون اور جولائی 2021 میں بھی عدالتوں اور پی ٹی اے کی جانب سے پابندیاں عائد کی گئیں، تاہم نومبر 2021 میں ٹک ٹاک انتظامیہ کی جانب سے مواد کی بہتر نگرانی کی یقین دہانی کے بعد پابندی ختم کر دی گئی تھی۔
تبصرے (۰)
اپنی رائے دیں