اسلام آباد: پاکستان نے سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کو نشانہ بنانے والے ڈرون حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی اور سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کے مطابق ڈرون حملوں سے ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کو نقصان پہنچا اور عام شہری زخمی ہوئے۔ پاکستان نے ان حملوں اور سویلین انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کی۔ دفتر خارجہ نے کہا کہ حملے خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ پاکستان نے سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا اور سعودی قیادت، حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ سعودی وزارت خارجہ کے مطابق ڈرون حملے عراقی سرزمین سے کیے گئے اور ان میں ریاض اور مدینہ میں پائپ لائن کو نشانہ بنایا گیا۔ سعودی عرب نے کہا کہ وہ اپنی تنصیبات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ تاہم عراقی وزیراعظم نے سعودی عرب پر زور دیا کہ وہ جوابی کارروائی نہ کرے۔ عراقی وزیر اعظم نے تصدیق کی کہ حملے کے لیے عراقی سرزمین استعمال کی گئی تھی۔ انہوں نے ایک سینئر فوجی کمانڈر کو برطرف کرنے اور ایران کے ساتھ شلمچھ سرحدی گزر گاہ کو بند کرنے کا بھی اعلان کیا۔ عراقی حکومت نے سعودی عرب کی طرف سے کسی بھی انتقامی کارروائی میں تاخیر کے فیصلے کا خیرمقدم کیا اور اس بات پر زور دیا کہ سعودی عرب کی سلامتی اور استحکام کو نشانہ بنانے والا کوئی بھی حملہ ناقابل قبول ہے۔