بریکنگ نیوز
حکومت تصادم کے بجائے سیاسی جماعتوں سے مشاورت کرے، بلاول بھٹو زرداری
چیئرمین پی پی پی نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کو مؤثر بنانے کی ذمہ داری صرف حکومت کی نہیں، اپوزیشن اور دیگر سیاسی جماعتوں پر بھی عائد ہوتی ہے۔
لاڑکانہ میں میں 600 بستروں پر مشتمل جدید سہولیات سے آراستہ اسپتال کا سنگ بنیاد رکھتے تقریب سے خطاب کرتے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے حکومت کو تجویز دی ہے کہ سیاسی محاذ آرائی اور مختلف فریقین سے مسلسل تصادم کے بجائے تمام سیاسی، سماجی اور صوبائی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ بامعنی مشاورت کو ترجیح دے۔انہوں نے کہا کہ ایک طرف پاکستان تحریک انصاف اور دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ سیاسی اختلافات اور محاذ آرائی جاری ہے، دوسری جانب دہشت گردی، بھارت اور افغانستان کے ساتھ تعلقات سمیت متعدد چیلنجز بھی موجود ہیں، ایسے حالات میں اگر قومی قیادت اپنی تمام تر توانائیاں ایک دوسرے سے لڑنے میں صرف کرتی رہی تو عوام کی تکالیف کم کرنے کے لیے درکار توجہ اور وسائل فراہم نہیں کیے جا سکیں گے۔
چیئرمین پی پی پی نے انتخابی اصلاحات کے لیے حکومت اور اپوزیشن کو ایک میز پر لانے کی کوششوں کے حوالے سے کہا کہ انتخابی اصلاحات ملک کا ایک بنیادی اور دیرینہ مسئلہ ہے، موجودہ حالات اس لحاظ سے غیر معمولی ہیں کہ اس مرتبہ صرف اپوزیشن ہی نہیں بلکہ حکومت کے اتحادی بھی انتخابات میں دھاندلی اور انتخابی عمل میں بے ضابطگیوں کی شکایات کرتے رہے ہیں حتیٰ کہ حکومتی جماعت کے بعض نمائندے اور ارکان بھی انتخابی عمل پر سوالات اٹھاتے رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنے وفود کے ذریعے سینیٹ اور قومی اسمبلی میں قائدین حزب اختلاف سے رابطہ کیا ہے اور ان سے درخواست کی ہے کہ اپوزیشن اپنے مکمل نمائندے انتخابی اصلاحات کمیٹی میں شامل کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے بعض معاملات پر یہ مؤقف اختیار کیا جاتا رہا ہے کہ پہلے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرائی جائے یا ان کی رہائی یقینی بنائی جائے، تاہم اب بانی پی ٹی آئی نے سینیٹ اور قومی اسمبلی میں قائدین حزبِ اختلاف کو مکمل اختیار دے دیا ہے، لہٰذا ان عہدوں پر موجود قیادت کو انتخابی اصلاحات کمیٹی میں پارٹی کی نمائندگی یقینی بنانے کا فیصلہ کرنا چاہیے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اگر تمام تر کوششوں اور دعوت کے باوجود پاکستان تحریک انصاف انتخابی اصلاحات کمیٹی کا حصہ بننے سے گریز کرتی ہے تو پھر کم از کم اسے آئندہ انتخابی عمل میں دھاندلی کے حوالے سے اپنے تحفظات اور شکایات عوام کے سامنے پیش کرنے کے معاملے پر بھی غور کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کو مؤثر بنانے کی ذمہ داری صرف حکومت کی نہیں بلکہ اپوزیشن سمیت تمام سیاسی جماعتوں پر عائد ہوتی ہے، اگر اپوزیشن مالیاتی کمیٹی، جوڈیشل کمیشن اور اب انتخابی اصلاحات کمیٹی سمیت مختلف پارلیمانی فورمز میں شرکت سے انکار کرے گی تو پھر اسے پارلیمنٹ کی کمزوری پر تنقید کرتے ہوئے اپنے کردار کا بھی جائزہ لینا چاہیے۔
بلاول بھٹو زرداری نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے حوالے سے کہا کہ پیپلز پارٹی کا اصولی مؤقف یہ ہے کہ کسی بھی منتخب حکومت کو ہٹانا کبھی بھی ایک مثالی صورت حال نہیں ہوتی اور واضح کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کبھی نہیں چاہے گی کہ کسی بھی جماعت کے جمہوری مینڈیٹ کو نقصان پہنچے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردی پاکستان پیپلز پارٹی کے لیے ایک ریڈ لائن ہے، دہشت گردی کو محض ایک بہانہ قرار دینا نہ صرف زمینی حقائق سے انکار ہے بلکہ ان پاکستانی شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کی قربانیوں کو بھی نظرانداز کرنے کے مترادف ہے جنہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی جانیں قربان کی ہیں۔
چیئرمین پی پی پی نے ایک مرتبہ پھر پاکستان تحریک انصاف اور وفاقی حکومت پر بھی زور دیا کہ بات چیت کا راستہ بند نہ کیا جائے، اگر آج بھی دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی پر وفاقی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے اور اس حوالے سے کوئی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو وہ خود سب سے پہلے یہ مطالبہ کریں گے کہ خیبرپختونخوا سے گورنر راج ختم کیا جائے۔
تبصرے (۰)
اپنی رائے دیں