مڈٹرم الیکشن میں ٹرمپ کو بدترین شکست، ڈیموکریٹس کو دونوں ایوانوں میں سادہ اکثریت حاصل
ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹس کے 235 اور ریپبلکن کے 144 ارکان کو برتری حاصل ہو گئی، مسلمان امیدوار الہان عمر، راشدہ طلیب اور عبدل السید بھی کامیاب ہو گئے۔
غیرملکی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ مطابق امریکا میں گزشتہ روز ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے نتائج آنے کا سلسلہ جاری ہے جن کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جماعت ’ریپبلکن‘ کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے جبکہ ڈیموکریٹس نے کانگریس کے دونوں ایوانوں یعنی ایوان نمائندگان او سینیٹ میں سادہ اکثریت حاصل کر لی ہے۔
سوشل میڈیا ایکس پر جاری نتائج کے مطابق ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹس کے 241 اور ریپبلکن کے 149 ارکان کو برتری حاصل ہے۔ سینیٹ میں ڈیموکریٹس نے 54 نشستیں جیت کر میدان مار لیا ہے جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی انتخابی نتائج تسلیم کرتے ہوئے ایک طرح سے اپنی شکست مان لی ہے۔
واضح رہے کہ 2 ایوانوں پر مشتمل امریکی کانگریس میں مجموعی طور پر 535 نشستیں ہوتی ہیں جن میں سے 435 ایوان نمائندگان کی جبکہ 100 نشستیں سینیٹ کی ہیں یعنی ہر ریاست سے 2 سینیٹرز ہیں۔ ان وسط مدتی انتخابات میں ایوان نمائندگان کی تمام 435 نشستوں اور سینیٹ کی 35 نشستوں پر الیکشن ہوئے۔
اسی طرح سینیٹ میں واضع اکثریت کے لیے 51 نشستیں درکار ہوتی ہیں۔ تاہم اگر دونوں بڑی جماعتوں کے پاس 50-50 نشستیں ہوں، تو موجودہ نائب صدر (جو سینیٹ کا صدر بھی ہوتا ہے) کا فیصلہ کن ووٹ جس جماعت کے حق میں جائے، وہ اکثریت حاصل کر لیتی ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق ورمونٹ، ورجینیا، جنوبی کیرولائنا، جورجیا، فلوریڈا، الینوائے، الاباما سمیت مختلف ریاستوں میں اہم مقابلوں کے ابتدائی نتائج کے مطابق ڈیموکریٹس امیدواروں کو سبقت حاصل ہے۔
امریکی سینیٹ کے ابتدائی نتائج کے مطابق سینیٹ میں ڈیموکریٹس کی 54 نشستوں پر برتری حاصل ہے جبکہ ریپبلکنز ارکان کے حصے میں 44 نشستیں آنے کا امکان ہے۔
سینیٹ انتخابات میں ڈیموکریٹس امیدواروں کو فلوریڈا اور جارجیا جبکہ جنوبی کیرولائنا ، شمالی کیرولائنا اور اوہائیو میں ڈیموکریٹ امیدوار آگے ہیں۔
ٹیکساس میں ڈیموکریٹ جیمز ٹالاریکو سینیٹ انتخاب میں کامیاب ہو گئے جبکہ جنوبی کیرولائنا میں ڈیموکریٹ اینی اینڈریوز سینیٹر منتخب ہو گئیں۔
مشی گن سے ڈیموکریٹس کی مسلمان امیدوار راشدہ طلیب نے کانگریس کی نشست پر کامیابی حاصل کر لی، شمالی کیرولائنا میں ڈیموکریٹس نے سینیٹ کی نشست ریپبلکن سے چھین لی، ڈیموکریٹ رائے کوپر نے ریپبلکن ’مائیکل واٹلی‘ کو ہرا دیا۔ ریاست جارجیا سے ڈیموکریٹ رہنما ’جون اوسوف‘ دوبارہ سینیٹر منتخب ہو گئے۔
فلوریڈا کے ڈسٹرکٹ 12 سے ڈیموکریٹ امیدوار ڈیبی واسرمین شلٹز نے ریپبلکن حریف برینٹ اینڈرسن کو شکست دے کر مسلسل 12 ویں مرتبہ کانگریس کی رکنیت حاصل کر لی۔ فلوریڈا کے ڈسٹرکٹ 19 سے ریپبلکن امیدوار جم شوارٹزل بھی کامیاب قرار پائے جبکہ ڈسٹرکٹ 23 سے ڈیموکریٹ امیدوار لوئس فرینکل نے کامیابی حاصل کی۔
ریاست جارجیا میں بھی ڈیموکریٹس نے متعدد نشستیں جیت لیں، ڈسٹرکٹ 5 سے نکیما ولیمز، ڈسٹرکٹ 13 سے جیسمین کلارک، ڈسٹرکٹ 6 سے لوسی میکبتھ اور ڈسٹرکٹ 4 سے ہینک جانسن نے ایوان نمائندگان کی نشستیں اپنے نام کر لیں۔
منیسوٹا کے پانچویں کانگریشنل ڈسٹرکٹ میں مسلمان ڈیموکریٹک امیدوار اور موجودہ رکن کانگریس الہان عمر ریپبلکن امیدوار جان نیگل کو شکست دے کر دوبارہ کانگریس کے رکن بن گئیں۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وسط مدتی انتخابی نتائج تسلیم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران جنگ کی وجہ سے انتخابات میں شکست ہوئی لیکن ایران کیخلاف جنگ شروع کرنے کے فیصلے پر کوئی پچھتاوا نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر کام کریں گے، ڈیموکریٹس کے ساتھ تعاون کیلئے تیار ہیں، ڈیموکریٹس کے ناقابل قبول اقدامات کو ویٹو کر دوں گا۔
امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ کابینہ میں کسی قسم کی تبدیلی کا کوئی ارادہ نہیں، وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کی حمایت کرتا ہوں۔
دریں اثناء ایکس پر جاری بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ بیلٹ پیپر پر میرا نام ہوتا تو ہم بھاری اکثریت سے جیت جاتے، وسط مدتی الیکشن ناکامی کا ذمہ دار ریپبلکن کے بعض رہنما بھی ہیں، میں اب سیاسی مبصر بن کر امیدواروں کی جیت اور ہار کی وجوہات بتاؤں گا ، ٹیکساس کے گورنر گریگ ایبٹ گزشتہ چھ ماہ میں صرف نام کے ریپبلکن رہے۔
تبصرے (۰)
اپنی رائے دیں