اسلام آباد(ایس اعوان) وزیراعظم شہباز شریف کے دسمبر کے پہلے ہفتے میں روسی فیڈریشن کے چار روزہ سرکاری دورے کی تیاریاں جاری ہیں، ذرائع کے مطابق دورے کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ اعلیٰ سطح کا سرکاری اور کاروباری وفد بھی روس جائے گا۔ دورے کے دوران پاکستان اور روس کے درمیان سربراہی سطح کے باضابطہ مذاکرات متوقع ہیں، جن میں دوطرفہ تعلقات، تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور علاقائی سلامتی سمیت اہم امور زیر بحث آئیں گے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان ملاقات میں افغانستان کی صورتحال، امریکی ایران تنازع، سعودی عرب اور یمن کے درمیان کشیدگی، مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے اور جنوبی و وسطی ایشیا میں امن و استحکام کے امور پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔ دونوں رہنما انسداد دہشت گردی تعاون اور علاقائی سلامتی کے معاملات پر بھی بات چیت کریں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اور روس کے درمیان انٹرنیشنل نارتھ ساؤتھ ٹرانسپورٹ کوریڈور (INSTC) کی ترقی اور اس سے استفادے کا معاملہ بھی مذاکرات کے ایجنڈے میں شامل ہوگا۔ اس منصوبے کا مقصد پاکستان، روس، وسطی ایشیا اور دیگر علاقائی ممالک کے درمیان تجارتی اور سفری روابط کو بہتر بنانا ہے۔ اس سلسلے میں ریلوے، سڑکوں اور دیگر ذرائع نقل و حمل کو مربوط کرنے پر غور کیا جائے گا۔
توانائی کے شعبے میں روس سے خام تیل کی درآمد کے لیے طویل مدتی تجارتی انتظامات، ایل این جی اور گیس کی فراہمی کے ممکنہ منصوبوں پر بات چیت متوقع ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تیل اور گیس کی ترسیل، ادائیگیوں اور تجارتی شرائط کے حوالے سے ممکنہ طریقہ کار کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی اور اسے جدید خطوط پر استوار کرنے کا معاملہ بھی دورے کے اہم ایجنڈے میں شامل ہونے کا امکان ہے۔ اقوام متحدہ اور شنگھائی تعاون تنظیم سمیت عالمی فورمز پر دونوں ممالک کے درمیان رابطوں اور تعاون کو مزید مستحکم بنانے پر بھی تبادلہ خیال کیا جا سکتا ہے۔
دورے کے موقع پر پاکستان اور روس کے درمیان تجارتی و اقتصادی تعلقات کے فروغ کے لیے پاکستان روس بزنس فورم کے انعقاد کا بھی امکان ہے۔ فورم میں تقریباً 100 پاکستانی کاروباری شخصیات اور مختلف کمپنیوں کے نمائندوں کی شرکت متوقع ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستانی کاروباری وفد میں ٹیکسٹائل، زراعت، خوراک، ادویات، صنعتی مصنوعات اور توانائی کے شعبوں سے وابستہ نمائندے شامل ہوں گے۔ اس موقع پر دونوں ممالک کے سرمایہ کاروں اور کاروباری اداروں کے درمیان براہ راست ملاقاتیں (B2B) بھی ہوں گی، جن میں مشترکہ سرمایہ کاری، صنعتی منصوبوں اور پاکستانی مصنوعات کے لیے روسی منڈی تک رسائی کے امکانات تلاش کیے جائیں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی لین دین میں درپیش بینکاری مشکلات دور کرنے اور کاروباری اداروں کو ادائیگیوں کے لیے آسان اور مؤثر طریقہ کار فراہم کرنے پر بھی بات چیت متوقع ہے۔ پاکستانی روپے اور روسی روبل میں تجارت کے امکانات کا جائزہ بھی لیا جائے گا۔
غذائی تحفظ کے تناظر میں روس سے گندم اور دیگر زرعی اجناس کی تجارت کو فروغ دینے کا معاملہ بھی ایجنڈے میں شامل ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ روس کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون کو نئی بلندیوں تک پہنچانے کے لیے نئے مواقع تلاش کرنا ہے۔
تبصرے (۰)
اپنی رائے دیں