راولاکوٹ میں کئی ماہ سے جاری دھرنوں کے خلاف آپریشن، جلسے، اجتماع پر پابندی
ضلع باغ میں پولیس و دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 'کلیئرنس آپریشن' کرتے ہوئے کوٹھیاں کے مقام پر جاری دھرنا بھی ختم کرایا۔
آزاد جموں و کشمیر کے علاقے راولاکوٹ میں سیکورٹی فورسز نے کئی ماہ سے جاری احتجاجی دھرنوں کے خلاف علی الصبح کیے گئے آپریشن کے دوران بس ٹرمینل کو بھی مظاہرین سے خالی کرا لیا۔
یہ مقام گزشتہ تقریباً 5 ماہ سے دھرنے کے شرکا کے قبضے میں تھا۔ اس کے علاوہ بھی راوالاکوٹ میں مختلف مقامات پر دھرنے دیے گئے ہیں جو کئی ماہ سے جاری ہیں۔
سرکاری ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز ضلع باغ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ’کلیئرنس آپریشن‘ کرتے ہوئے کوٹھیاں کے مقام پر جاری دھرنا بھی ختم کرایا۔
آپریشن کے بعد انتظامیہ نے راولاکوٹ میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے 5 یا اس سے زیادہ افراد کا ”کسی بھی مقام پر اجتماع، جلسہ، جلوس، ریلی اور احتجاج کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی“۔
اے جے کے پولیس کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں بتایا گیا کہ ”راولاکوٹ بس ٹرمینل کے قریب عوامی راستوں پر قائم غیر قانونی رکاوٹیں ہٹانے اور شہریوں کی آمد و رفت بحال کرنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ضروری اقدامات کیے۔“
پریس ریلیز کے مطابق ”اس دوران فسادی جتھے کے مسلح افراد نے پولیس پر اندھا دھند فائرنگ شروع کردی جس کے نتیجے میں پولیس نے جوابی کارروائی کی۔ فائرنگ کے تبادلے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار زخمی ہوئے جن کی تفصیلات جلد ہی جاری کی جائیں گی جبکہ دوسری جانب انتشاری جتھے کے چند مسلح افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔“
پولیس کی پریس ریلیز میں مزید کہا گیا ہے کہ ”واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر بے بنیاد اور گمراہ کن پرو پیگنڈا کیا جا رہا ہے اور حقائق کے برعکس من گھڑت دعوے پھیلائے جا رہے ہیں، جن کا مقصد عوام میں خوف و ہراس پیدا کرنا اور صورتحال کو مزید کشیدہ کرنا ہے۔“
تبصرے (۰)
اپنی رائے دیں